مشترک غلام آزاد کرنا
کل احادیث 32
مشترک غلام کو آزاد کرنے سے متعلق احادیثِ نبوی کا مجموعہ
ان احادیث مبارکہ میں مشترک غلام (ایسا غلام جس میں ایک سے زیادہ افراد شراکت دار ہوں) کو آزاد کرنے کے اہم شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی مشترک غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کرتا ہے، اور وہ شخص مالدار ہے، تو انصاف کے ساتھ پورے غلام کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا۔ وہ مالدار شراکت دار باقی ساجھیوں کو ان کے حصے کی قیمت اپنے مال سے ادا کرے گا، اور پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا۔ لیکن اگر آزاد کرنے والے کے پاس اتنی رقم یا مال موجود نہ ہو جس سے پورے غلام کی قیمت ادا کی جا سکے، تو غلام کا صرف وہی حصہ آزاد ہوگا جو اس نے کیا تھا۔ باقی حصوں کی آزادی کے لیے غلام کو خود کوشش کر کے قیمت ادا کرنی ہوگی۔ یہ احادیث شراکت داری کے حقوق اور غلاموں کی آزادی کے منصفانہ نظام کو واضح کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ .
´اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ،عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا ، قَالَ : فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ .
´اس سند سے بھی اسی مفہوم کی` روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نافع نے کبھی «فقد عتق منه ما عتق» کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ أَيُّوبُ : فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ .
´اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے` ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ «وإلا عتق منه ما عتق» نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُعْتَقُ " .
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ساجھیوں کے درمیان ساجھے کے غلام کو اگر کسی ایک ساجھی نے آزاد کیا، تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو باقی حصوں کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا۔ پھر (اسی کی طرف سے) پورے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا۔
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح ، وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ .
مندرجہ بالا حدیث کی دوسری اسناد مذکور ہیں۔
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ : إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ، ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ .
ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”اگر وہ آزاد کرنے والا مال دار نہ ہو تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے اور محنت کرے اپنے باقی حصے کے لیے جو آزاد نہیں ہوا مگر اس پر جبر نہ ہو گا۔“
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ .
قتادہ نے ابن ابی عروبہ کی حدیث کی مانند روایت کی۔ اور حدیث میں یہ بھی ذکر کیا کہ اس کی واجبی قیمت لگائی جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے“۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی“ پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں)۔
