آندھی اور طوفان کی دعا

کل احادیث 8

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت منقول ہوئی ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي " ، وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ : " رَحْمَةٌ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قاعدہ تھا کہ جب آندھی اور بدلی کا دن ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوف معلوم ہوتا (یعنی عذاب الہٰی سے ڈرتے) اور گھڑی آگے جاتے، گھڑی پیچھے۔ پھر اگر مینہ برس گیا تو خوش ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف جاتا رہتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ڈرتا ہوں کہ شاید یہ کوئی عذاب نہ ہو جو اللہ نے میری امت پر بھیجا ہو۔“ اور جب مینہ دیکھتے تو فرماتے: ”یہ رحمت ہے۔“

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ " ، قَالَتْ : وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب جھونکے کی آندھی آتی تو «اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» پڑھتے یعنی ”یا اللہ! میں اس ہوا کی بہتری مانگتا ہوں اور جو اس کے اندر ہے اس کی بہتری۔ اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کی بہتری اور پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے اور جو اس کے اندر ہے اور اس کی برائی سے اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کی برائی سے۔“اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آسمان پر بدلی اور بجلی کڑکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور باہر نکلتے اور اندر آتے اور آگے آتے اور پیچھے جاتے۔ پھر اگر مینہ برسنے لگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ جاتی رہتی۔ غرض اس بات کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہچانا اور آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو جیسے عاد کی قوم نے دیکھ کر کہ بدلی ہے جو ان کے آگے آئی ہے، کہنے لگے کہ یہ بدلی ہم پر برسنے والی ہے۔“

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ ، قَالَتْ : وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ ، قَالَتْ : فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا " .

عائشہ روایت:

میں نے کبھی نہ دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق کا کوا نظر آنے لگتا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ مسکراتے تھے اور جب بدلی کو دیکھتے یا آندھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ میں ڈر معلوم ہونے لگتا، سو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں اور لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ جب بدلی کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید سے کے اس میں پانی ہو گا۔ اور جب آپ بدلی کو دیکھتے تو آپ کے چہرہ پر ناگواری ظاہر ہوتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے خوف رہتا ہے اس کا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو اس لئے کہ ایک قوم ہوا ہی کے عذاب سے ہلاک ہو چکی ہے اور جب ایک قوم نے عذاب کو دیکھا تو یوں کہا کہ یہ بدلی ہے ہم پر برسنے والی۔“

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پروا ہوا کے ذریعہ مدد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کر دی گئی تھی۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : " كَانَتْ الرِّيحُ الشَّدِيدَةُ إِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

انس بن مالک روایت:

جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ کے حکم سے صبا سے مدد دی گئی اور عاد «دبور» سے ہلاک کی گئی ہے۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ أَنَسًا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَلْ كَانَ يُصِيبُكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ الْمَسْجِدَ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ .

نضر روایت:

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آ جاتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں