نیکی اور صلہ رحمی
جامع ترمذی : ۱۸۹۷
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۸۹۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَبَاكَ ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ ، فَالْأَقْرَبَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَبَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ هُوَ أَبْنُ مُعَاوِيَةَ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَرَوَى عَنْهُ مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ .
´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد کا، درجہ بدرجہ“ ۱؎۔
جامع ترمذی : ۱۸۹۸
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۸۹۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنِ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، رَوَاهُ الشَّيْبَانِيُّ ، وَشُعْبَةُ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وأَبُو عَمْروٍ الشَّيْبَانِيَّ اسْمُهُ سَعْدُ .
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وقت پر نماز ادا کرنا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، حالانکہ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ زیادہ بتاتے ۱؎۔
جامع ترمذی : ۱۸۹۹
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۸۹۹
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنّ لِيَ امْرَأَةً ، وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : إِنَّ أُمِّي ، وَرُبَّمَا قَالَ أَبِي ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ .
´ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نے ان کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے، اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے، (میں کیا کروں؟) ابوالدرداء رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو“ ۱؎۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی «إن امی» (میری ماں) کہا اور کبھی «إن أبی» (میرا باپ) کہا۔
