زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
جامع ترمذی : ۲۳۰۴
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۳۰۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ فَرَفَعُوهُ ، وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ .
´اس سند سے بھی` عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
جامع ترمذی : ۲۳۰۵
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۳۰۵
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي طَارِقٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ ؟ " فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا ، وَقَالَ : " اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا ، وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا هَكَذَا ، رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا : لَمْ يَسْمَعْ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے“، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: ”تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے“۔
جامع ترمذی : ۲۳۰۶
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۳۰۶
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحْرَّرِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا ، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا ، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا ، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا ، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا ، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ ، وَقَدْ رَوَى بِشْرُ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ هَذَا ، وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَمَّنْ سَمِعَ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : تَنْتَظِرُونَ .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے“۔
