حدیث ۱۰۱۰

سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۱۰۱۰

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ : نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَالتَّشَهُّدُ ، قَالَ : لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ : كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ ، وَلَا ذَكَرَ : فَأَوْمَئُوا ، وَلَا ذَكَرَ : الْغَضَبَ ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، أَتَمُّ .

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول: «نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم» تک ذکر کی۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی محمد بن سیرین سے) پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے، لیکن اس روایت میں ”آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے“ کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے، حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں