حدیث ۱۳۹۳

سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۱۳۹۳

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ : أَوْسُ بْنُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ ، قَالَ : فَنَزَلَتِ الْأَحْلَافُ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ ، قَالَ مُسَدَّدٌ : وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَقِيفٍ ، قَالَ : كَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ يُحَدِّثُنَا ، وقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : " لَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ ، قَالَ مُسَدَّدٌ : بِمَكَّةَ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ نُدَالُ عَلَيْهِمْ ، وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا " ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةً أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ ، فَقُلْنَا : لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ ، قَالَ : " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ جُزْئِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيءَ حَتَّى أُتِمَّهُ " . قَالَ أَوْسٌ : سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ ؟ قَالُوا : ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ وَحْدَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ .

´اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا، (مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ (آپ گفتگو) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ”ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آ گئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر“۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کر دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا“۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ) کی روایت کامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں