حدیث ۱۴۳۷
سنن ابو داؤد : ۱۴۳۷
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۱۴۳۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ " قُلْتُ : كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ قَالَتْ : " كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ ، وَرُبَّمَا جَهَرَ ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ : تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ .
´عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔
