حدیث ۱۸۵۸
سنن ابو داؤد : ۱۸۵۸
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۱۸۵۸
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ،عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : " أَمَعَكَ دَمٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ " .
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے“۔
