حدیث ۲۲۶۷
سنن ابو داؤد : ۲۲۶۷
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۲۶۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى ، وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مُسَدَّدٌ وَ ابْنُ السَّرْحِ : يَوْمًا مَسْرُورًا ، وَقَالَ عُثْمَانُ : يُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ عَائِشَةُ ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَ أُسَامَةَ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا ؟ " فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس (مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے (اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ۱؎ محسوس کی جا رہی تھیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے۔
