حدیث ۲۸۷۵
سنن ابو داؤد : ۲۸۷۵
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۸۷۵
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَبَائِرُ ؟ فَقَالَ : " هُنَّ تِسْعٌ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ زَادَ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا .
´عمیر بن قتادۃ لیثی رضی اللہ عنہ (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نو ہیں ۱؎“، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: ”مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے“ کا اضافہ ہے۔
