حدیث ۲۸۹۶
سنن ابو داؤد : ۲۸۹۶
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۸۹۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنً ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ، فَقَالَ : لَكَ السُّدُسُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ سُدُسٌ آخَرُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ ، قَالَ قَتَادَةُ : فَلَا يَدْرُونَ مَعَ أَيِّ شَيْءٍ وَرَّثَهُ قَالَ قَتَادَةُ : أَقَلُّ شَيْءٍ وَرِثَ الْجَدُّ السُّدُسُ " .
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے“، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے“، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے“۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔
