حدیث ۲۹۱۸
سنن ابو داؤد : ۲۹۱۸
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۹۱۸
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، وهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ هِشَامٌ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَالَ يَزِيدُ: إِنَّ تَمِيمًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ " .
´تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے (اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا)“۔
