حدیث ۲۹۲۱
سنن ابو داؤد : ۲۹۲۱
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۹۲۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ 0 ، كَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَى :وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75 .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» ”جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو“ (سورۃ النساء: ۳۳) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت: «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ”اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں“ (سورۃ الانفال: ۷۵) سے منسوخ ہو گیا۔
