حدیث ۴۰۶۸
سنن ابو داؤد : ۴۰۶۸
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۴۰۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُفْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ : أُرَاهُ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَأَحْرَقْتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ ؟ فَقُلْتُ : أَحْرَقْتُهُ ، قَالَ : أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ ؟ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ثَوْرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، فَقَالَ : مُوَرَّدٌ ، وَطَاوُسٌ ، قَالَ : مُعَصْفَرٌ .
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟“ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے «معصفر» (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔
