حدیث ۴۲۶
سنن ابو داؤد : ۴۲۶
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۴۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ ،عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا " ، قَالَ الْخُزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ عَمَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا : أُمُّ فَرْوَةَ ، قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ .
´ام فروہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا“۔ خزاعی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے (قاسم نے) اپنی پھوپھی (جنہیں ام فروہ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) سے روایت کی ہے، اس میں «سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم» کی بجائے «أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل» ہے۔
