حدیث ۴۴۴۹
سنن ابو داؤد : ۴۴۴۹
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۴۴۴۹
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى نَفَرٌ مِنْ يَهُودَ فَدَعَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقُفِّ فَأَتَاهُمْ فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ ، فَقَالُوا : " يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ رَجُلًا مِنَّا زَنَى بِامْرَأَةٍ ، فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ ، فَوَضَعُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : ائْتُونيِ بِالتَّوْرَاةِ فَأُتِيَ بِهَا ، فَنَزَعَ الْوِسَادَةَ مِنْ تَحْتِهِ فَوَضَعَ التَّوْرَاةَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : آمَنْتُ بِكِ وَبِمَنْ أَنْزَلَكِ ، ثُمَّ قَالَ : ائْتُونِي بِأَعْلَمِكُمْ ، فَأُتِيَ بِفَتًى شَابٍّ " ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ الرَّجْمِ ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر قف ۱؎ لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس (مدرسہ) میں آئے تو وہ کہنے لگے: ابوالقاسم! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے پاس تورات لاؤ“ چنانچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا: ”میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے“ پھر آپ نے فرمایا: ”جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ“ چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے۔
