حدیث ۹۲۵

سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۹۲۵

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ " فَرَدَّ إِشَارَةً " ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ . وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ .

´صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے «إشارة بأصبعه» کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں