صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۳ - تہجد کے بعد سحر کا آرام
تہجد کی نماز اور سحر کے وقت آرام کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۱۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۳۳
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ : ذَكَرَ أَبِي ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوسلمہ روایت:
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ انہوں نے اپنے یہاں سحر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ لیٹے ہوئے پایا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تہجد کی نماز، سحر کا وقت اور نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کا ایک سادہ مشاہدہ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے یہاں سحر کے وقت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو لیٹے ہوئے پایا۔ اس سے ہمیں یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ رات کی عبادت کے ساتھ آرام کا ذکر بھی حدیث میں آیا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں دیکھے ہوئے حال کو بیان کر رہی ہیں۔ اس روایت کو پڑھتے وقت اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن میں آیا ہے۔ یعنی سحر کے وقت، ان کے یہاں، نبی صلى الله عليه وسلم آرام فرما رہے تھے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو تہجد کی نماز، قیام اللیل، نماز تہجد کا وقت اور فجر سے پہلے آرام کے بارے میں حدیث تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کے ایک مشاہدے کو نقل کیا۔
- حدیث میں سحر کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کے آرام کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- رات کے معمولات کو سمجھتے ہوئے روایت کے الفاظ سے آگے بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھریلو مشاہدات بھی امت تک دین کی بات پہنچانے کا ذریعہ بنے۔
