صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۲ - نیک عمل میں پابندی اور تہجد
نیک عمل میں پابندی: تہجد اور حضور صلى الله عليه وسلم کا پسندیدہ عمل
صحیح بخاری : ۱۱۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۳۲
حَدَّثَنِي عَبْدَانُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، سَمِعْتُ أَبِي , قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقًا , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ , قَالَتْ : الدَّائِمُ ، قُلْتُ : مَتَى كَانَ يَقُومُ ؟ , قَالَتْ : يَقُومُ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ " ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ, قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَشْعَثِ , قَالَ : إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّى .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا؟ آپ نے جواب دیا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے (خواہ وہ کوئی بھی نیک کام ہو) میں نے دریافت کیا کہ آپ (رات میں نماز کے لیے) کب کھڑے ہوتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ جب مرغ کی آواز سنتے۔ ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے خبر دی، ان سے اشعث نے بیان کیا کہ مرغ کی آواز سنتے ہی آپ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا۔ انہوں نے صاف جواب دیا کہ وہ عمل جس پر ہمیشگی کی جائے۔ اس سے نیک عمل میں پابندی کی اہم بات سامنے آتی ہے۔ انسان کبھی بہت زیادہ عمل کر کے چھوڑ دیتا ہے، مگر اس حدیث میں پسندیدہ عمل وہ بتایا گیا ہے جو مسلسل کیا جائے۔ اسی روایت میں یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم رات میں نماز کے لیے کب اٹھتے تھے۔ جواب ملا کہ جب مرغ کی آواز سنتے تو اٹھتے اور نماز پڑھتے۔ اس لیے یہ حدیث تہجد کی نماز، رات کی نماز، مسلسل عمل اور نیک عمل کی پابندی کے بارے میں بہت آسان اور عملی رہنمائی دیتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ نیکی کو وقتی جوش کے بجائے عادت بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک عمل وہ زیادہ پسندیدہ ہے جس پر پابندی کی جائے۔
- رات کی نماز کے لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا معمول اس روایت میں مرغ کی آواز کے بعد اٹھنا بیان ہوا ہے۔
- عمل میں تسلسل وقتی جوش سے بہتر سمجھ آتا ہے۔
- سوال کر کے دین کی بات سمجھنا صحابہ کے طریقے میں شامل تھا۔
