صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۳ - قرآن سے غفلت اور فرض نماز
فرض نماز چھوڑ کر سونا اور قرآن سے غفلت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۱۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴۳
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّؤْيَا , قَالَ : " أَمَّا الَّذِي يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ ، فَإِنَّهُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفِضُهُ وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ " .
سمرہ بن جندب روایت:
´ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام قرآن سے تعلق اور فرض نماز کی حفاظت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خواب کے بیان میں ایک شخص کا ذکر فرمایا جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا۔ اس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ قرآن کا حافظ تھا، مگر قرآن سے غافل ہو گیا، اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا۔ یہاں بات عام نفل عبادت کی نہیں، بلکہ فرض نماز اور قرآن سے منہ موڑنے کی ہے۔ یہ حدیث ہمیں بہت سنجیدگی سے یاد دلاتی ہے کہ قرآن صرف یاد کر لینے کا نام نہیں؛ اسے چھوڑ دینا بڑی محرومی ہے۔ اسی طرح فرض نماز کا وقت آ جائے تو نیند کو بہانہ بنا کر مسلسل غفلت اختیار کرنا خطرناک بات ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ قرآن سے تعلق زندہ رکھے اور فرض نماز کے لیے بیداری کا اہتمام کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سیکھنے کے بعد اس سے غافل ہو جانا سخت نقصان کی بات ہے۔
- فرض نماز کے وقت سوتے رہنا حدیث میں مذکور غفلت ہے۔
- حفظ قرآن کے ساتھ عمل اور توجہ بھی ضروری ہے۔
- نیند کو فرض نماز چھوڑنے کا مستقل معمول نہیں بنانا چاہیے۔
