صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۴ - غسل میت
غسل میت کی حدیث: تین یا پانچ بار غسل
صحیح بخاری : ۱۲۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ام عطیہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۴ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی غسل میت کے وہی اہم مراحل بیان ہوئے ہیں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ، یا ضرورت ہو تو اس سے زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ آخری بار کافور استعمال کرنے کا بھی فرمایا۔ جب غسل مکمل ہو گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم کو خبر دی گئی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے اندر ان کے بدن پر لپیٹ دو۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے غسل میں پاکیزگی، ترتیب اور عزت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کے غسل میں پاکیزگی اور ترتیب کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- تین یا پانچ بار غسل دینے کا حکم روایت میں موجود ہے۔
- آخر میں کافور استعمال کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- غسل مکمل ہونے کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کو خبر دی گئی۔
