صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۵ - غسل کی ترتیب
غسل میت میں دائیں طرف اور وضو کے اعضاء سے آغاز
صحیح بخاری : ۱۲۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ : " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
ام عطیہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے غسل شروع کرنا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں غسل میت کے شروع کرنے کی ترتیب بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی صاحبزادی کے غسل کے وقت فرمایا کہ دائیں طرف سے اور وضو کے اعضاء سے غسل شروع کرنا۔ یہ الفاظ مختصر ہیں مگر طریقہ بہت واضح کرتے ہیں۔ غسل میت میں جلد بازی یا بے ترتیبی نہیں، بلکہ ادب اور سکون کے ساتھ دائیں جانب اور وضو والی جگہوں سے آغاز کیا جائے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میت کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صفائی کے ساتھ احترام بھی ضروری ہے۔ حدیث ہمیں بس اتنا بتاتی ہے، اس لیے اسی حد تک بات کرنا چاہیے کہ غسل کے آغاز میں دائیں جانب اور وضو کے اعضاء کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل میت دائیں طرف سے شروع کرنے کا ذکر ہے۔
- وضو کے اعضاء سے آغاز کرنے کی ہدایت دی گئی۔
- میت کے غسل میں ترتیب اور ادب رکھا جاتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے بات اسی حد تک رہنی چاہیے۔
