صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۶ - غسل کی ترتیب
میت کے غسل کی ترتیب: دائیں طرف سے شروع کرنا
صحیح بخاری : ۱۲۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا : ابْدَأَنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ " .
ام عطیہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی بات کو دوسرے لفظوں میں مضبوط کرتی ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینا شروع کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دائیں طرف سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرو۔ اس سے غسل میت کا ایک عملی ادب سمجھ آتا ہے۔ میت کا غسل صرف پانی ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باوقار عمل ہے جس میں ترتیب، پاکیزگی اور نرمی شامل ہیں۔ دائیں طرف سے آغاز کرنا اور وضو والی جگہوں کو پہلے لینا حدیث کے الفاظ میں موجود ہے۔ اس لیے غسل میت کا طریقہ سیکھتے ہوئے یہی بات خاص یاد رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل شروع کرتے وقت دائیں جانب کو پہلے لیا گیا۔
- وضو والی جگہوں سے آغاز حدیث میں آیا ہے۔
- میت کے ساتھ نرمی اور احترام کا معاملہ ہونا چاہیے۔
- غسل میت کا طریقہ روایت کے الفاظ سے سیکھا جائے۔
