صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۷ - غسل میت
غسل میت میں تعداد، خبر دینا اور ازار لپیٹنا
صحیح بخاری : ۱۲۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ : " تُوُفِّيَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا :اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَنَزَعَ مِنْ حِقْوِهِ إِزَارَهُ , وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ام عطیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ تم اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ بھی غسل دے سکتی ہو۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ چنانچہ جب ہم غسل دے چکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کے غسل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہیں تین یا پانچ مرتبہ غسل دو، اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو۔ پھر فرمایا کہ جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دینا۔ غسل مکمل ہونے کے بعد ام عطیہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ والی خواتین نے آپ صلى الله عليه وسلم کو خبر دی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کے بدن سے لپیٹ دو۔ اس روایت سے میت کے غسل میں عدد کے بارے میں آسانی، ضرورت کے مطابق اضافہ، اور آخر میں بدن کو عزت سے ڈھانپنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل کی تعداد تین یا پانچ بیان ہوئی ہے۔
- ضرورت کے مطابق زیادہ غسل دینے کی اجازت حدیث میں ہے۔
- غسل مکمل ہونے پر نبی صلى الله عليه وسلم کو خبر دی گئی۔
- ازار کو بدن سے لپیٹنے کا حکم میت کے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔
