صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۲ - قبر پر جنازہ میں صف بندی
قبر پر نماز جنازہ میں صف بندی کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۲۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ : فَأَمَّنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ , فَقُلْنَا : يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ ؟ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .
شعبی روایت:
مجھے اس صحابی نے خبر دی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا۔ وہ کہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ہم نے پوچھا کہ ابوعمرو (یہ شعبی کی کنیت ہے) یہ آپ سے بیان کرنے والے کون صحابی ہیں؟ فرمایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۲ کا خلاصہ
اس روایت میں نماز جنازہ میں صف بندی کا ذکر بہت صاف انداز میں آیا ہے۔ ایک صحابی نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے وہاں امامت فرمائی اور صحابہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ جب شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ یہ بات کس صحابی نے بیان کی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ اس حدیث میں بات مختصر ہے، مگر پیغام واضح ہے: نماز جنازہ صرف ایک رسمی کام نہیں، بلکہ منظم طریقے سے ادا کی جانے والی دعا ہے۔ قبر پر جنازہ، امام کے پیچھے صف، اور صحابہ کی شرکت سب اسی عمل کو بتاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز جنازہ میں امام کے پیچھے صف بنانا اس روایت سے ثابت ہے۔
- قبر الگ جگہ ہو تب بھی میت کے لیے نماز اور دعا کا اہتمام کیا گیا۔
- حدیث نقل کرتے وقت راوی کی پہچان پوچھنا علم میں احتیاط کی ایک اچھی مثال ہے۔
