صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۹ - زنا کے مقدمہ میں نبوی فیصلہ
زنا کے مقدمہ میں نبوی فیصلہ: حد کے نفاذ کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۲۹
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ , وَامْرَأَةٍ زَنَيَا , فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنے ہم مذہب ایک مرد اور عورت کا، جنہوں نے زنا کیا تھا، مقدمہ لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجد کے نزدیک نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس انہیں سنگسار کر دیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حد زنا سے متعلق ایک واقعہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہود نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس اپنے ایک مرد اور ایک عورت کا مقدمہ لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے مسجد کے نزدیک، نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس، انہیں سنگسار کیا گیا۔ اس روایت میں جگہ کا ذکر بھی آیا ہے، یعنی مسجد کے قریب جنازہ گاہ کے پاس۔ یہاں ہمیں صرف اتنا ہی مضمون ملتا ہے کہ ایک مقدمہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس پیش ہوا اور آپ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے حد نافذ ہوئی۔ اس سے آگے شرائط یا فقہی تفصیلات اس متن میں بیان نہیں ہوئیں، اس لیے وضاحت کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حد کے معاملے میں مقدمہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے لایا گیا، یعنی فیصلہ باقاعدہ اختیار کے تحت ہوا۔
- روایت میں مرد اور عورت دونوں کا ذکر ہے، اس لیے واقعہ کو اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔
- حدیث میں مقام بھی بتایا گیا ہے: مسجد کے قریب جنازہ گاہ کے پاس۔
