صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۲ - الگ قبر میں دوبارہ دفن کرنا

تدفین کی حدیث: والد کو الگ قبر میں دفن کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۵۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ ، فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ ، فَجَعَلْتُهُ فِي قَبْرٍ عَلَى حِدَةٍ " .

جابر روایت:

میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی (جابر رضی اللہ عنہ کے چچا) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ کا مختصر واقعہ ہے۔ ان کے والد کے ساتھ ایک اور صحابی ایک ہی قبر میں دفن تھے۔ جابر رضی اللہ عنہ کا دل اس پر مطمئن نہ ہوا کہ والد اسی طرح دوسرے شخص کے ساتھ قبر میں رہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے والد کی لاش نکالی اور انہیں الگ قبر میں دفن کر دیا۔ تدفین کی حدیث میں ایک بیٹے کے دل کی کیفیت اور والد کے احترام کا پہلو نظر آتا ہے۔ متن میں صرف یہی واقعہ بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے عمومی بڑے دعوے نہیں نکالنے چاہییں۔ یہاں قبر، تدفین، والد کی محبت اور الگ دفن کرنے کا عمل بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جابر رضی اللہ عنہ نے والد کے لیے الگ قبر پسند کی۔
  • روایت میں بیٹے کی قلبی کیفیت بیان ہوئی ہے۔
  • ایک ہی قبر میں دفن ہونے کے بعد الگ تدفین کا واقعہ آیا۔
  • والد کے احترام کا پہلو واضح ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں