صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۱ - نماز، زکوٰۃ اور خیر خواہی کی بیعت
زکوٰۃ کی حدیث: نماز، زکوٰۃ اور ہر مسلمان کی خیر خواہی
صحیح بخاری : ۱۴۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۰۱
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ , قَالَ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
جریر بن عبداللہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے ‘ زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت صاف انداز میں بتاتی ہے کہ مسلمان کی زندگی صرف اپنی عبادت تک محدود نہیں رہتی۔ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتوں پر بیعت کی: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنا۔ یہاں زکوٰۃ کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ کے حق کے ساتھ بندوں کا حق بھی اہم ہے۔ نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، زکوٰۃ مال کو صحیح جگہ پہنچاتی ہے، اور خیر خواہی دل کو مسلمانوں کے لیے صاف رکھتی ہے۔ اس حدیث میں نیکی کو بہت عملی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان اپنے مال، عبادت اور رویے تینوں میں ذمہ دار بنتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز قائم کرنا مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
- زکوٰۃ دینا مال کے حق کو ادا کرنے کا حصہ ہے۔
- ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی ایمان والے رویے کی نشانی ہے۔
- بیعت میں عبادت اور اخلاق دونوں باتیں شامل تھیں۔
