صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۲ - جانوروں کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے کا انجام

جانوروں کی زکوٰۃ کی حدیث: مال کا حق ادا کرنا کیوں ضروری ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۰۲

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَأْتِي الْإِبِلُ عَلَى صَاحِبِهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ ، إِذَا هُوَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى صَاحِبِهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ ، إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَقَالَ : وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : وَلَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ وَلَا يَأْتِي بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ (قیامت کے دن) اپنے مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کا حق (زکوٰۃ) نہ ادا کیا کہ اس سے زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے (جیسے دنیا میں تھے) اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گے۔ بکریاں بھی اپنے ان مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کے حق نہیں دئیے تھے پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہو کر آئیں گی اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ بھی ہے کہ اسے پانی ہی پر (یعنی جہاں وہ چراگاہ میں چر رہی ہوں) دوہا جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس طرح نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر ایک ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو چلا رہی ہو اور وہ (شخص) مجھ سے کہے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے عذاب سے بچائیے میں اسے یہ جواب دوں گا کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا (میرا کام پہنچانا تھا) سو میں نے پہنچا دیا۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ لیے ہوئے قیامت کے دن نہ آئے کہ اونٹ چلا رہا ہو اور وہ خود مجھ سے فریاد کرے ‘ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے بچائیے اور میں یہ جواب دے دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تجھ کو (اللہ کا حکم زکوٰۃ) پہنچا دیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے جو اونٹوں اور بکریوں کا حق ادا نہیں کرتے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق قیامت کے دن وہ جانور زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے مالک کو روندیں گے یا سینگ ماریں گے۔ اس سے زکوٰۃ کی اہمیت بہت صاف سمجھ آتی ہے کہ جانور بھی مال ہیں اور ان کے حق میں کوتاہی معمولی بات نہیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ ان جانوروں کا ایک حق یہ ہے کہ انہیں پانی پر دوہا جائے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ قیامت کے دن کوئی شخص بکری یا اونٹ اٹھائے فریاد کرے تو آپ فرمائیں گے کہ میں نے حکم پہنچا دیا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانوروں کے مال میں بھی شرعی حق ادا کرنا ضروری ہے۔
  • زکوٰۃ نہ دینے والا قیامت کے دن جواب دہ ہو گا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت تک حکم صاف پہنچا دیا۔
  • مال کا حق وقت پر ادا کرنا غفلت سے بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں