صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۱ - پسندیدہ مال کا صدقہ
صدقہ کی فضیلت: پسندیدہ مال اللہ کی راہ میں دینا
صحیح بخاری : ۱۴۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۶۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ ، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا ، وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ : وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ " ، تَابَعَهُ رَوْحٌ ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى , وَإِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مَالِكٍ رَايِحٌ .
انس بن مالک روایت:
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» یعنی ”تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔“یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے۔راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خوب! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا۔عبداللہ بن یوسف کے ساتھ اس روایت کی متابعت روح نے کی ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل نے مالک کے واسطہ سے ( «رابح» کے بجائے) «رائح» نقل کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام صدقہ کی فضیلت اور پسندیدہ مال خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیرحاء نامی باغ بہت محبوب تھا۔ جب انہوں نے آیت سنی کہ نیکی اس وقت تک نہیں ملتی جب تک آدمی اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرے، تو فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے باغ اللہ کے لیے صدقہ کر دیا اور آخرت کے اجر کی امید رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو نفع بخش فرمایا اور مشورہ دیا کہ اسے قریبی رشتہ داروں میں دے دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف دور کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ضرورت مند رشتہ دار بھی اس کے اچھے حق دار ہو سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں وہ چیز دینا بڑی نیکی ہے جو انسان کو واقعی عزیز ہو۔
- صدقہ کرتے وقت آخرت کے اجر کی نیت رکھنا اچھی بات ہے۔
- قریبی رشتہ دار اگر ضرورت مند ہوں تو ان پر خرچ کرنا بہت مناسب ہے۔
- دینی معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو ترجیح دینی چاہیے۔
