صحیح بخاری حدیث ۱۵۰۱ - زکوٰۃ کے اونٹ اور امانت کا معاملہ
زکوٰۃ کے اونٹوں کی حدیث: امانت، خیانت اور سخت انجام
صحیح بخاری : ۱۵۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۰۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَعَضُّونَ الْحِجَارَةَ " ، تَابَعَهُ أَبُو قِلَابَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ .
انس روایت:
عرینہ کے کچھ لوگوں کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی کہ وہ زکوٰۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا دودھ اور پیشاب استعمال کریں (کیونکہ وہ ایسے مرض میں مبتلا تھے جس کی دوا یہی تھی) لیکن انہوں نے (ان اونٹوں کے) چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے آخر وہ لوگ پکڑ لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا دیں پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا (جس کی شدت کی وجہ سے) وہ پتھر چبانے لگے تھے۔اس روایت کی متابعت ابوقلابہ ثابت اور حمید نے انس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زکوٰۃ کے اونٹ اور امانت کا معاملہ ہے۔ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ کی آب و ہوا سے بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کے پاس جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب علاج کے طور پر استعمال کریں۔ روایت میں صاف بتایا گیا ہے کہ انہیں سہولت دی گئی، مگر انہوں نے اس امانت کا غلط فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ لے کر بھاگ گئے۔ اس کے بعد انہیں پکڑا گیا اور ان پر سخت سزا نافذ ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا مال عام مال نہیں، بلکہ امانت ہے۔ زکوٰۃ کے اونٹ، صدقہ کا مال، خیانت، قتل اور حق تلفی جیسے الفاظ اسی واقعے کے مرکزی پہلو ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ اور صدقہ کا مال امانت ہے، اسے نقصان پہنچانا بہت بڑا جرم ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار لوگوں کو علاج کی اجازت دی، مگر انہوں نے خیانت کی۔
- روایت میں قتل، چوری اور بھاگنے کے بعد سخت سزا کا خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔
- کسی دی گئی سہولت کو ظلم یا خیانت کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
