صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۹ - طلوع و غروب کے وقت نماز سے ممانعت
سورج طلوع اور غروب ہوتے وقت نماز کی ممانعت
صحیح بخاری : ۱۶۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲۹
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قال : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عِنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہوتے اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہوتے وقت اور سورج غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔ اس روایت کا موضوع نماز کے ممنوع اوقات ہے۔ اس میں الفاظ کم ہیں مگر رہنمائی بہت واضح ہے۔ مسلمان کو نماز سے محبت ہونی چاہیے، مگر اس محبت کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حدوں کا خیال رکھے۔ ہر وقت نفل نماز پڑھنا درست نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ بعض اوقات کے بارے میں خاص ممانعت آئی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا حسن اسی میں ہے کہ اسے صحیح وقت، صحیح نیت اور صحیح طریقے سے ادا کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج طلوع ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے۔
- سورج غروب ہوتے وقت بھی نماز سے منع فرمایا گیا ہے۔
- عبادت میں وقت کی پابندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ہونی چاہیے۔
