صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۸ - مکروہ وقت میں نماز سے احتیاط

طواف کی دو رکعت اور مکروہ وقت کی احتیاط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲۸

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ نَاسًا طَافُوا بالبيت بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ قَعَدُوا إِلَى الْمُذَكِّرِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامُوا يُصَلُّونَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : قَعَدُوا حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَامُوا يُصَلُّونَ " .

عائشہ روایت:

کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ پھر ایک وعظ کرنے والے کے پاس بیٹھ گئے اور جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ نماز (طواف کی دو رکعت) پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے (ناگواری کے ساتھ) فرمایا جب سے تو یہ لوگ بیٹھے تھے اور جب وہ وقت آیا کہ جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں کچھ لوگوں کا عمل بیان ہوا کہ انہوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا، پھر ایک واعظ کے پاس بیٹھ گئے۔ جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ طواف کی دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر ناگواری سے فرمایا کہ یہ لوگ بیٹھے رہے، پھر جب وہ وقت آیا جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کے وقت کی پابندی اور طواف کے بعد کی دو رکعت میں احتیاط ہے۔ بات یہ نہیں کہ طواف کے بعد نماز کی اہمیت کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ نماز کے اوقات کا ادب بھی ضروری ہے۔ عبادت میں صرف عمل کرنا کافی نہیں، مناسب وقت کا خیال بھی دین کا حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طواف کے بعد کی نماز میں وقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • مکروہ وقت میں نماز کے لیے جان بوجھ کر تاخیر مناسب نہیں۔
  • صحابہ کرام عبادت کے وقت اور طریقے دونوں پر توجہ دیتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں