صحیح بخاری حدیث ۱۶۸۰ - سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے اجازت
سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے پہلے روانگی کی اجازت
صحیح بخاری : ۱۶۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : "اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ جَمْعٍ ، وَكَانَتْ ثَقِيلَةً ثَبْطَةً فَأَذِنَ لَهَا " .
عائشہ روایت:
ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات عام لوگوں سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت چاہی آپ رضی اللہ عنہا بھاری بھر کم بدن کی عورت تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے عام لوگوں سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت چاہی۔ وہ بھاری بھرکم بدن کی عورت تھیں اور چلنے میں سست رفتار تھیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ اس حدیث کا اصل موضوع مزدلفہ سے پہلے روانگی، عورتوں کی اجازت، سودہ رضی اللہ عنہا اور حج میں سہولت ہے۔ روایت میں صرف اجازت کا ذکر ہے، اس لیے بات بھی اسی تک رکھی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی حالت کو دیکھا اور انہیں پہلے جانے کی اجازت دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سودہ رضی اللہ عنہا نے پہلے روانگی کی اجازت طلب کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی جسمانی حالت کے سبب اجازت دی۔
- حج کے سفر میں کمزور یا سست رفتار افراد کی حالت کا لحاظ رکھا گیا۔
- اجازت نبی صلى الله عليه وسلم سے طلب کی گئی اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے منظور فرمایا۔
