صحیح مسلم حدیث ۱۲۹۰ - عصر میں دو رکعت پر سلام

عصر کی نماز میں دو رکعت پر سلام: ذوالیدین کی حدیث اور سجدہ سہو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۹۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ! کیا نماز گھٹ گئی یا آپ بھول گئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ کوئی بات نہیں ہوئی۔“ (یعنی نہ نماز گھٹی نہ میں بھولا) وہ بولا: کچھ تو ضرور ہوا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے۔“ وہ لوگ بولے ہاں یا رسول اللہ! وہ سچ کہتا ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی نماز رہ گئی تھی وہ پوری کی اور پھر دو سجدے کئے بیٹھے بیٹھے سلام کے بعد۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پوچھا کہ کیا نماز کم ہو گئی یا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرمایا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ذوالیدین نے عرض کیا کہ کچھ ضرور ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کر کے پوچھا کہ کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی نماز باقی تھی وہ پوری کی، پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ یہ روایت سجدہ سہو بعد السلام، عصر کی نماز میں بھول، نماز پوری کرنے اور جماعت سے تصدیق لینے کے موضوعات کو واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز ادھوری رہ جائے تو باقی حصہ پورا کیا گیا۔
  • ذوالیدین کی بات کو لوگوں سے پوچھ کر ثابت کیا گیا۔
  • سلام کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کیے گئے۔
  • نماز کے معاملے میں نرمی نہیں، بلکہ درستگی کا اہتمام کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں