صحیح مسلم حدیث ۱۲۹۱ - ظہر میں دو رکعت پر سلام
ظہر کی نماز میں دو رکعت پر سلام: نماز کم ہوئی یا بھول ہوئی؟
صحیح مسلم : ۱۲۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۹۱
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا تو بنی سلیم میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز گھٹ گئی یا آپ بھول گئے اور بیان کیا حدیث کو جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیر دیا۔ بنی سلیم میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ کیا نماز کم ہو گئی یا آپ بھول گئے؟ متن میں بتایا گیا ہے کہ حدیث کو اوپر والی روایت کی طرح بیان کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ روایت بھی نماز میں بھول اور سجدہ سہو کے اسی واقعے سے متعلق ہے، جہاں بات واضح ہونے کے بعد نماز مکمل کی گئی اور سجدہ سہو کیا گیا۔ اس حدیث میں ظہر کی نماز، دو رکعت پر سلام، نماز میں بھول اور سجدہ سہو جیسے اہم سرچ موضوعات موجود ہیں۔ چونکہ روایت نے تفصیل کو پچھلی حدیث کے حوالے سے بیان کیا ہے، اس لیے یہاں بھی اسی حد تک بات کرنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر کی نماز میں دو رکعت کے بعد سلام ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- ایک شخص نے ادب کے ساتھ سوال کیا کہ نماز کم ہوئی یا بھول ہوئی۔
- روایت پچھلی حدیث کے مضمون سے جڑی ہوئی ہے۔
- نماز میں بھول سامنے آئے تو اسے درست کیا جاتا ہے۔
