صحیح مسلم حدیث ۱۲۹۲ - نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز میں سہو
نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز میں بھول: دو رکعت کے بعد سلام والی روایت
صحیح مسلم : ۱۲۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۹۲
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَاةَ الظُّهْرِ ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
ابوہریرہ روایت:
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا دو رکعتوں کے بعد تو بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہو گیا باقی حدیث اسی طرح ہے جو اوپر بیان ہوئی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۹۲ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرا، پھر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ باقی حدیث اسی طرح ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ اس لیے اس روایت کا موضوع بھی وہی ہے: نماز میں بھول، دو رکعت پر سلام، معاملے کی وضاحت، نماز کی تکمیل اور سجدہ سہو۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ راوی خود نماز میں شریک ہونے کی بات بیان کرتے ہیں۔ یہ انداز روایت کو اور قریب کر دیتا ہے، کیونکہ واقعہ براہ راست نماز کے اندر پیش آیا۔ سجدہ سہو کی حدیث، ظہر میں بھول، نماز ادھوری رہ جائے اور سلام کے بعد نماز پوری کرنا اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی خود نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز میں موجود تھے۔
- دو رکعت کے بعد سلام ہونے کا ذکر واضح ہے۔
- بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور معاملہ بتایا۔
- یہ روایت سابقہ واقعے کی تائید کرتی ہے۔
