صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۰ - ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم
ہدی کے جانور پر سواری کی حدیث: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا تین بار حکم
صحیح بخاری : ۱۶۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۹۰
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَشُعْبَةُ , قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : ارْكَبْهَا ثَلَاثًا " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا جانور لیے جا رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا اس نے پھر عرض کیا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ سوار ہو جا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۰ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی قربانی کے جانور پر سواری سے متعلق ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا جانور لے جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس شخص نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار بھی فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔ اس حدیث میں زور اس بات پر ہے کہ ہدی ہونے کی وجہ سے سواری کو منع نہیں کیا گیا، بلکہ اجازت کو صاف الفاظ میں دہرایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حدیث ہدی پر سوار ہونا کے موضوع میں بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے جانور پر سواری کی اجازت دی۔
- جانور کے قربانی کے لیے ہونے کو سواری سے مانع نہیں بتایا گیا۔
- حکم کو تین بار دہرانا بات کی وضاحت کو ظاہر کرتا ہے۔
- حدیث میں آسانی کا پہلو متن کے اندر صاف نظر آتا ہے۔
