صحیح بخاری حدیث ۱۷۰۸ - حج اور عمرہ کو جمع کرنا
حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی حدیث: سنت کی پیروی کا بیان
صحیح بخاری : ۱۷۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۰۸
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْحَجَّ عَامَ حَجَّةِ الْحَرُورِيَّةِ فِي عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَنَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَمَعْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ ، وَأَهْدَى هَدْيًا مُقَلَّدًا اشْتَرَاهُ حَتَّى قَدِمَ فَطَافَ بالبيت وَبِالصَّفَا ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ ، فَحَلَقَ وَنَحَرَ وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ , ثُمَّ قَالَ : كَذَلِكَ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
نافع روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں حجۃ الحروریہ کے سال حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں میں باہم قتل و خون ہونے والا ہے اور ہم کو خطرہ اس کا ہے کہ آپ کو (مفسد لوگ حج سے) روک دیں، آپ نے جواب میں یہ آیت سنائی کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“اس وقت میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر جب آپ بیداء کے بالائی حصہ تک پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ میں نے حج کو بھی جمع کر لیا ہے، پھر آپ نے ایک ہدی بھی ساتھ لے لی جسے ہار پہنایا گیا تھا۔آپ نے اسے خرید لیا یہاں تک کہ آپ مکہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا جو چیزیں (احرام کی وجہ سے ان پر) حرام تھیں ان میں سے کسی سے قربانی کے دن تک وہ حلال نہیں ہوئے، پھر سر منڈوایا اور قربانی کی وجہ یہ سمجھتے تھے کہ اپنا پہلا طواف کر کے انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا طواف پورا کر لیا ہے پھر آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۰۸ کا خلاصہ
اس روایت میں نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مشکل وقت میں حج کا ارادہ کیا۔ جب انہیں روک دیے جانے کے خطرے کا کہا گیا تو انہوں نے قرآن کی آیت سنائی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے، پھر کہا کہ میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کیا تھا۔ انہوں نے پہلے عمرہ لازم کیا، پھر بیداء کے اوپر پہنچ کر حج کو بھی عمرہ کے ساتھ جمع کر لیا، ہدی ساتھ لی، مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، قربانی کے دن تک حلال نہ ہوئے، پھر سر منڈوایا اور قربانی کی۔ روایت کے آخر میں انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی پیروی کو بنیاد بنایا۔
- اس روایت میں حج اور عمرہ کو ایک ساتھ جمع کرنے کا ذکر ہے۔
- ہدی ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ قربانی کے دن تک حلال نہیں ہوئے، جیسا کہ متن میں آیا ہے۔
