صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۴ - ذی قعدہ کا عمرہ اور مکہ میں داخلے کی شرط

ذی قعدہ کا عمرہ: مکہ میں داخلے کے لیے صلح کی شرط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۴۴

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ ، يَدْخُلُ مَكَّةَ ، حَتَّى قَاضَاهُمْ لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ سِلَاحًا إِلَّا فِي الْقِرَابِ " .

براء روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا تو مکہ والوں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا، پھر ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ ہتھیار نیام میں ڈال کر مکہ میں داخل ہوں گے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع عمرہ اور صلح کی شرط ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا۔ مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ پھر ان سے اس بات پر صلح ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مکہ میں ہتھیار کھلے طور پر نہیں لائیں گے، بلکہ ہتھیار نیام میں ہوں گے۔ اس روایت میں اصل بات یہی ہے کہ عمرہ کے سفر میں ایک رکاوٹ پیش آئی اور پھر ایک خاص شرط کے ساتھ داخلے کا معاملہ طے ہوا۔ یہاں حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس موقع پر مکہ میں داخلے کے لیے ہتھیاروں سے متعلق شرط رکھی گئی۔ اس سے زیادہ تفصیل اس متن میں موجود نہیں، اس لیے بات کو اسی روایت کی حد تک رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا۔
  • مکہ والوں نے ابتدا میں داخل ہونے سے روکا۔
  • بعد میں ایک طے شدہ شرط کے ساتھ مکہ میں داخلے کا معاملہ ہوا۔
  • حدیث میں ہتھیار نیام میں رکھنے کی شرط خاص طور پر بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں