صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۵ - حج اور عمرہ کے میقات کا بیان
حج اور عمرہ کے میقات: مدینہ، نجد، یمن اور مکہ والوں کا حکم
صحیح بخاری : ۱۸۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۴۵
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ، ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ ، قَرْنَ الْمَنَازِلِ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ ، وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کو میقات بنایا، نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔ یہ میقات ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ہے اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے ہو کر مکہ آئیں اور حج اور عمرہ کا بھی ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں تو ان کی میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج اور عمرہ کا میقات ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔ پھر بتایا گیا کہ یہ میقات صرف انہی علاقوں کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی ہیں جو ان راستوں سے مکہ آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں، ان کا میقات وہ جگہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں۔ مکہ والوں کے لیے میقات مکہ ہی ہے۔ اس حدیث میں میقات کا حکم بہت صاف انداز میں آیا ہے۔ حج کا میقات، عمرہ کا میقات، اور مکہ والوں کا میقات اسی روایت کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج اور عمرہ کے لیے مختلف علاقوں کے میقات مقرر کیے گئے۔
- مدینہ والوں کا میقات ذو الحلیفہ بتایا گیا۔
- نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم مقرر ہوا۔
- مکہ والوں کا میقات مکہ ہی بیان کیا گیا ہے۔
