صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۹ - مصراۃ بکری اور قافلے سے پہلے خریداری
مصراۃ بکری اور تجارتی قافلے: خرید و فروخت کا صاف طریقہ
صحیح بخاری : ۲۱۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَرَدَّهَا ، فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُلَقَّى الْبُيُوعُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جو شخص «مصراة» بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو (اصل مالک کو) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے (جو مال بیچنے لائیں) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو شخص مصراۃ بکری خریدے، یعنی ایسی بکری جس کا دودھ روکا گیا ہو، پھر اسے واپس کرنا چاہے تو اس کے ساتھ ایک صاع بھی واپس کرے۔ روایت کے سیاق میں یہ دودھ کے بدل کی صورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا۔ اس کا تعلق بازار کے صاف نظام سے ہے، تاکہ باہر سے آنے والے لوگ منڈی کی حالت جانے بغیر معاملہ نہ کر بیٹھیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بیع میں دھوکہ، جلدی بازی اور معلومات چھپا کر فائدہ لینا درست نہیں۔ مصراۃ بکری، قافلہ سے خریداری، تلقی البیوع اور ایک صاع کھجور اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دودھ روک کر بیچی گئی بکری واپس کی جا سکتی ہے۔
- واپسی کے ساتھ دودھ کا بدل دینے کی بات آئی ہے۔
- قافلہ والوں سے منڈی سے پہلے خریدنے سے منع کیا گیا۔
- خرید و فروخت میں معلومات کا توازن اہم ہے۔
