صحیح بخاری حدیث ۲۳۶۹ - جھوٹی قسم اور فالتو پانی روکنے کی وعید
جھوٹی قسم اور پانی روکنے کی حدیث: امانت، تجارت اور رحم کا سبق
صحیح بخاری : ۲۳۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ : رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهُوَ كَاذِبٌ ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللَّهُ الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ " . قَالَ عَلِيٌّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات بھی نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھے گا۔ وہ شخص جو کسی سامان کے متعلق قسم کھائے کہ اسے اس کی قیمت اس سے زیادہ دی جا رہی تھی جتنی اب دی جا رہی ہے حالانکہ وہ جھوٹا ہے۔ وہ شخص جس نے جھوٹی قسم عصر کے بعد اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ ایک مسلمان کے مال کو ہضم کر جائے۔ وہ شخص جو اپنی ضرورت سے بچے پانی سے کسی کو روکے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج میں اپنا فضل اسی طرح تمہیں نہیں دوں گا جس طرح تم نے ایک ایسی چیز کے فالتو حصے کو نہیں دیا تھا جسے خود تمہارے ہاتھوں نے بنایا بھی نہ تھا۔علی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو سے کئی مرتبہ بیان کیا کہ انہوں نے ابوصالح سے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کی سند پہنچاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جھوٹی قسم اور پانی کا حق ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے تین لوگوں کا ذکر فرمایا جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا۔ ان میں ایک وہ ہے جو سامان کے بارے میں جھوٹی قسم کھائے کہ اسے زیادہ قیمت مل رہی تھی، حالانکہ وہ جھوٹا ہو۔ دوسرا وہ ہے جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر مسلمان کا مال ہضم کرے۔ تیسرا وہ ہے جو اپنی ضرورت سے بچا ہوا پانی کسی کو نہ دے۔ اس حدیث میں جھوٹی قسم کی حدیث، تجارت میں جھوٹ، مسلمان کے مال کا حق اور فالتو پانی روکنے کا گناہ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ متن صاف بتاتا ہے کہ زبان کی بے احتیاطی اور دوسروں کی ضرورت روکنا بہت خطرناک معاملہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تجارت میں جھوٹی قسم کھانا سخت گناہ ہے۔
- کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم سے لینا بڑا ظلم ہے۔
- ضرورت سے بچا پانی روکنا سنگین عمل بتایا گیا ہے۔
- اللہ کی نعمت کو اپنی ملکیت سمجھ کر دوسروں سے روکنا درست نہیں۔
