صحیح بخاری حدیث ۲۳۷۲ - گمشدہ مال کا حکم اور امانت

لقطہ کی حدیث: گمشدہ چیز ملے تو کیا کیا جائے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۷۲

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " .

زید بن خالد روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور آپ سے لقطہ (راستے میں کسی کی گم ہوئی چیز جو پا گئی ہو) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی خوب جانچ کر لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اس عرصے میں اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ پھر وہ چیز تمہاری ہے۔سائل نے پوچھا، اور گمشدہ بکری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑئیے کی ہے۔ سائل نے پوچھا اور گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اسے سیراب رکھنے والی چیز ہے اور اس کا گھر ہے، پانی پر بھی وہ جا سکتا ہے اور درخت (کے پتے) بھی کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع گمشدہ مال یعنی لقطہ ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے راستے میں ملی ہوئی چیز کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو، پھر ایک سال تک اعلان کرو۔ اگر مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ وہ چیز تمہارے استعمال میں آ سکتی ہے۔ جب گمشدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ تمہاری ہے، یا تمہارے بھائی کی، یا بھیڑئیے کی۔ گمشدہ اونٹ کے بارے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب، اس کے پاس پانی پینے اور چلنے کی طاقت ہے، وہ خود پانی تک پہنچ سکتا ہے اور درخت کھا سکتا ہے، یہاں تک کہ مالک اسے پا لے۔ لقطہ کی حدیث، گمشدہ مال کا حکم، گمشدہ بکری، گمشدہ اونٹ اور امانت کی حدیث اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گمشدہ چیز ملے تو اس کی پہچان محفوظ رکھنی چاہیے۔
  • مالک کی تلاش کے لیے اعلان کرنا امانت داری کا حصہ ہے۔
  • ہر گمشدہ جانور کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا۔
  • اونٹ جیسے خود سنبھلنے والے جانور کو بلا وجہ نہیں چھیڑنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں