صحیح بخاری حدیث ۲۳۷۳ - محنت کی کمائی اور خودداری
محنت کی کمائی کی حدیث: سوال سے بہتر اپنے ہاتھ کا کام
صحیح بخاری : ۲۳۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۷۳
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلًا ، فَيَأْخُذَ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَبِيعَ ، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهِ وَجْهَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أُعْطِيَ أَمْ مُنِعَ " .
زبیر بن عوام روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے، پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور (بھیک) اسے دی جائے یا نہ دی جائے۔ اس کی بھی کوئی امید نہ ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خودداری اور محنت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا لائے، پھر اسے بیچے، اور اس طرح اللہ اس کی آبرو محفوظ رکھے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، پھر اسے دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ اس روایت میں محنت کی کمائی، سوال نہ کرنا، عزت نفس، حلال روزی اور لکڑیاں بیچنے کی حدیث جیسے اہم موضوعات آتے ہیں۔ حدیث کا انداز بہت عملی ہے۔ یہ کسی بڑے کاروبار یا بڑی دولت کی بات نہیں کرتی، بلکہ ایک معمولی کام کو بھی عزت والا راستہ بتاتی ہے اگر اس سے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائے۔ متن سے یہ سبق ملتا ہے کہ چھوٹی محنت بھی عزت کے ساتھ ہو تو سوال سے بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے ہاتھ سے محنت کرنا عزت والا راستہ ہے۔
- بلا ضرورت لوگوں سے سوال کرنے سے بچنا چاہیے۔
- چھوٹا کام بھی انسان کی آبرو بچا سکتا ہے۔
- رزق کے لیے جائز محنت کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔
