صحیح بخاری حدیث ۲۳۷۸ - اونٹ کا حق اور پانی کے پاس دودھ دوہنا
اونٹ کے حق کی حدیث: دودھ، پانی اور دوسروں کا فائدہ
صحیح بخاری : ۲۳۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۷۸
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اونٹ کا حق یہ ہے کہ ان کا دودھ پانی کے پاس دوہا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اونٹ کا حق ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کا حق یہ ہے کہ اس کا دودھ پانی کے پاس دوہا جائے۔ الفاظ مختصر ہیں، مگر معنی بہت عملی ہیں۔ پانی کے مقام پر لوگ اور جانور آتے ہیں، اس لیے وہاں دودھ دوہنے میں دوسروں کے فائدے کا پہلو سمجھ آتا ہے۔ متن میں اتنی ہی بات آئی ہے، اس لیے ہم اسی حد تک رہتے ہیں۔ اونٹ کا حق، اونٹ کا دودھ، پانی کے پاس دودھ دوہنا، جانوروں کے حقوق اور صدقہ پانی جیسے سرچ الفاظ اس حدیث سے جڑتے ہیں۔ یہ روایت یاد دلاتی ہے کہ جانور صرف مال نہیں، اس کے ساتھ حق اور ذمہ داری بھی جڑی ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمت میں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا اچھا عمل ہے، جب یہ حدیث کے الفاظ کے دائرے میں سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اونٹ کے ساتھ بھی حق کا معاملہ وابستہ ہے۔
- دودھ دوہنے کی جگہ میں دوسروں کے فائدے کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
- جانور مال ہونے کے ساتھ ذمہ داری بھی ہیں۔
- پانی کے مقام پر نفع پہنچانے کا پہلو واضح ہوتا ہے۔
