صحیح بخاری حدیث ۲۴۱۴ - خرید و فروخت میں دھوکے سے بچاؤ
لا خلابہ حدیث: خریدتے وقت کہو کوئی دھوکا نہ ہو
صحیح بخاری : ۲۴۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۱۴
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَايَعْتَ ، فَقُلْ لَا خِلَابَةَ " ، فَكَانَ يَقُولُهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک صحابی کوئی چیز خریدتے وقت دھوکا کھا جایا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تو خریدا کرے تو یہ کہہ دے کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ پس وہ اسی طرح کہا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی بات کو دوبارہ واضح کرتی ہے کہ ایک صحابی خرید و فروخت میں دھوکا کھا جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: کوئی دھوکا نہ ہو۔ اس مختصر ہدایت میں بہت بڑا عملی فائدہ ہے۔ خریدار اپنی حالت بتا دیتا ہے اور بیچنے والے کو صاف تنبیہ ہو جاتی ہے کہ معاملہ دھوکے سے پاک ہونا چاہیے۔ اس حدیث کا اصل موضوع کاروباری امانت اور صاف شرط ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بھی رہنمائی ہے جو لین دین میں کم تجربہ رکھتے ہیں۔ بازار، خریداری اور بیع کے معاملات میں سچائی اور وضاحت ہی بہتر راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خریداری میں اپنی شرط واضح کہنا درست ہے۔
- دھوکا کھانے والے شخص کی مدد کی گئی۔
- بیع میں صاف گوئی ضروری ہے۔
- کاروبار میں دوسرے کی کمزوری سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
