صحیح بخاری حدیث ۲۴۱۷ - جھوٹی قسم اور حق تلفی
حق تلفی کی حدیث: جھوٹی قسم سے مال نہ لو
صحیح بخاری : ۲۴۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۱۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، قَالَ : فَقَالَ الْأَشْعَثُ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے کوئی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی تاکہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ پاک اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔راوی نے بیان کیا کہ اس پر اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ سے ہی متعلق ایک مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ اس نے انکار کیا تو میں نے مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا، کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ پھر تو قسم کھا۔اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ جھوٹی قسم کھا لے گا اور میرا مال اڑا لے جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونچی خریدتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۱۷ کا خلاصہ
یہ روایت اسی اہم مضمون کو بیان کرتی ہے کہ جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال لینا بہت سنگین جرم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ بات ان کے ایک زمین کے جھگڑے کے موقع پر ہوئی۔ ان کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے فریق سے قسم کا فرمایا۔ اشعث رضی اللہ عنہ کو ڈر تھا کہ وہ جھوٹی قسم کھا کر مال لے جائے گا۔ اس واقعے میں گواہ، قسم، دعویٰ اور مال کے حق کا ذکر ہے۔ حدیث ہمیں زبان اور قسم کے معاملے میں بہت محتاط بناتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کو مال کمانے کا غلط ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
- حق ثابت کرنے میں گواہی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
- دوسرے کا مال ناحق لینا سخت خطرناک ہے۔
- جھگڑے کے وقت بھی سچائی لازم ہے۔
