صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۶ - جھوٹی قسم کھا کر مال لینا
جھوٹی قسم کی حدیث: مال کے لیے جھوٹا حلف نہ کھاؤ
صحیح بخاری : ۲۶۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۶۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ : فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِيَّ : وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ لَا ، قَالَ : فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے کوئی ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا تھا، کسی مسلمان کا مال چھیننے کے لیے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔“انہوں نے بیان کیا کہ اس پر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ گواہ ہے، یہ حدیث میرے ہی متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ میرا ایک یہودی سے ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ یہودی میرے حق کا انکار کر رہا تھا۔ اس لیے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا (کیونکہ میں مدعی تھا) کہ گواہی پیش کرنا تمہارے ہی ذمہ ہے۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا گواہ تو میرے پاس کوئی بھی نہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا ”پھر تم قسم کھاؤ۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بول پڑا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں سے معمولی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال لینا چاہے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا۔ روایت میں حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی آیا ہے کہ ان کا ایک یہودی سے زمین کا جھگڑا تھا۔ جب گواہ نہ تھے تو قسم کا معاملہ سامنے آیا۔ اس موقع پر یہ سخت تنبیہ بیان ہوئی۔ یہ حدیث جھوٹی قسم، مال ہڑپ کرنا، زمین کا جھگڑا اور گواہی کے اصول سے متعلق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا تھوڑا سا فائدہ اللہ کے غضب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ مقدمات، کاروبار اور زمین کے معاملات میں سچائی لازم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال لینا سخت گناہ ہے۔
- مالی جھگڑوں میں گواہی اور قسم کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔
- دنیا کا فائدہ اللہ کے غضب کے مقابلے میں حقیر ہے۔
- مقدمے میں سچ بولنا اور حق پر رہنا ضروری ہے۔
