صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۵ - ابن عمر کا فتویٰ اور غلام کی آزادی
ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فتویٰ: مشترک غلام کی آزادی
صحیح بخاری : ۲۵۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۲۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِقْدَامٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي فِي الْعَبْدِ أَوِ الْأَمَةِ يَكُونُ بَيْنَ شُرَكَاءَ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، يَقُولُ : قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِذَا كَانَ لِلَّذِي أَعْتَقَ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ، يُقَوَّمُ مِنْ مَالِهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ ، وَيُدْفَعُ إِلَى الشُّرَكَاءِ أَنْصِبَاؤُهُمْ ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ " . يُخْبِرُ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرَوَاهُ اللَّيْثُ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ ، وَجُوَيْرِيَةُ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَصَرًا .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غلام یا باندی کے بارے میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ اگر وہ کئی ساجھیوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اس شخص پر پورے غلام کے آزاد کرانے کی ذمہ داری ہو گی لیکن یہ اس صورت میں جب شخص مذکور کے پاس اتنا مال ہو جس سے پورے غلام کی قیمت ادا کی جا سکے۔ غلام کی مناسب قیمت لگا کر دوسرے ساجھیوں کو ان کے حصوں کے مطابق ادائیگی کر دی جائے گی اور غلام کو آزاد کر دیا جائے گا۔ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے اور لیث بن ابی ذئب، ابن اسحاق، جویریہ، یحییٰ بن سعید اور اسماعیل بن امیہ بھی نافع سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر طور پر۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۵ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فتویٰ بیان ہوا ہے جو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر غلام یا باندی کئی شریکوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اگر آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو کہ پورے غلام کی قیمت ادا کر سکے، اس پر پوری آزادی کی ذمہ داری آئے گی۔ غلام کی مناسب قیمت لگائی جائے گی، دوسرے شریکوں کو ان کے حصے کے مطابق رقم دی جائے گی، اور آزاد ہونے والے کا راستہ کھول دیا جائے گا۔ اس حدیث میں عتق، شریکوں کے مالی حق، اور آزاد شخص کے حق کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فتویٰ دیتے وقت صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کو بنیاد بناتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر قائم ہونا چاہیے۔
- مشترک غلام کی آزادی میں ہر شریک کا مالی حق ادا کیا جائے۔
- آزاد ہونے والے شخص کو قیمت کی ادائیگی کے بعد آزاد چھوڑ دیا جائے۔
